Najaiz Hawas Story In Urdu | Urdu Stories | Stories In Urdu | Adult Stories In Urdu | Love Story In Urdu

 Najaiz Hawas Story In Urdu





   یہ ایک بہت دلچسپ اور رونگٹے کھڑے کرنے والی کہانی ہے اسے سن کر اپ خود پر قابو نہیں رکھ پائیں گے تو چلیے بڑھتے ہیں سٹوری کی طرف 

 میرا نام عالیہ ہے اور میری عمر اٹھارہ سال ہے میرے خوبصورت نقش و نگار موٹی آنکھیں اور لمبے بال ہمیشہ سب کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں میری خوبصورتی دیکھ کر لوگ اکثر یہی کہتے تھے کہ یہ تو کھوئے والی برفی ہے میں جانتی ہوں کہ میں خوبصورت ہوں لیکن میں نے آج تک اپنا کوئی بوائے فرینڈ نہیں بنایا اور نہ ہی کسی کو لفٹ کروائی کیونکہ میں نے اپنی سہیلیوں سے سنا تھا کہ اکثر بوائے فرینڈ اپنا مطلب نکال کر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر شادی کے لیے نہیں مانتے کیونکہ ان کو جو چاہیے ہوتا ہے وہ ان کو پہلے ہی مل گیا ہوتا ہے پھر ان کو لڑکی میں دلچسپی نہیں رہتی اور میں نے یہ سب کچھ شادی کے لیے بچا کر رکھا ہوا تھا جیسے بڑوں کی مثال ہے بند مٹھی لاکھ کی کھل گئی تو خاک کی.

 میری موم بھی میری طرح بہت خوبصورت تھی اور اپنی عمر سے کہیں کم کی نظر آتی تھی میری موم مجھ سے پوچھتی ہے کہ آج تم کالج کیوں نہیں گئی  میں نے بولا آج طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس وجہ سے نہیں گئی. موم نے آج ریڈ کلر کی ساڑی پہنی ہوئی تھی اور میک اپ بھی کیا ہوا تھا اس وجہ سے وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید راھول چچا آج گھر آئیں گے کیونکہ موم اکثر تب ہی اتنا تیار ہوتی تھیں کہ جب چچا نے آنا ہوتا تھا آج بھی ایسا ہی لگ رہا تھا اور مجھے موم پر کچھ شک پہلے سے ہی تھا۔ آج بھی ایسا ہی لگ رہا تھا۔ پھر موم مجھے کہنے لگی کہ جاؤ اپنی دوست کرینہ سے مل آؤ . میں موم کی بات سن کر بہت حیران تھی کہ پہلے جب میں نے جانا ہوتا تھا توموم وہ بہت مشکل سے مانتی تھیں اور آج خود ہی بول رہی ہیں میں سوچ رہی تھی کہ آخر موم مجھے کرینہ کے گھر کیوں بھیج رہی ہیں مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ دال میں کافی کچھ کالا ہے پھر میں اپنی موم کے کہنے پر کرینہ سے ملنے چلی گئی

 جس کا گھر ہمارے گھر سے پانچ منٹ کے فاصلے پر تھا جب میں ادھر پہنچی تو اس کی موم نے مجھے بتایا کہ کرینہ تو اپنے ماموں کے گھر شادی پر گئی ہوئی ہے اور اس نے ایک دو دن کے بعد آنا ہے کرینہ کی موم نے مجھے چائے پیش کی اور میں نے کچھ دیر ان کے ساتھ باتیں کیں  پھر میں نے ان کو بولا کہ جب کرینہ آئے گی تو اسے بتا دینا  کہ میں آئی تھی اور پھر میں ان سے اجازت لے کر واپس چل پڑی جب میں گھر پہنچی تو میں نے آرام سے دروازہ کھولا اور اندر چلی گئی لیکن موم مجھے کہیں نظر نہیں آرہی تھی پھر میں موم کے بیڈ روم کی طرف گئی تو مجھے ایسی آواز آرہی تھی کہ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ کس چیز کی آواز ہے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی آہستہ آہستہ تالیاں مار رہا ہے لیکن میں نے سوچا کہ موم آخر کار اپنے بیڈ روم میں تالیاں کیوں ماریں گی لیکن میں کچھ دیر یہ آواز سنتی رہی اور دس منٹ کے بعد یہ آواز آنا بند ہو گئی اور پھر مجھے اندر سے باتیں کرنے کی آواز آئی.

 میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر بیڈ روم میں ہو کیا رہا ہے پھر میں نے بڑی مشکل سے کھڑکی کے ایک چھوٹے سے سوراخ سے اندردیکھا. تو میں اندر کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اندر موم اور راھول چچا موجود تھے  وہ دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں محبت سے دیکھ رہے تھے  پھر راھول چچا شرٹ پہنتے ہیں یہ منظر میری برداشت سے باہر تھا لیکن میں کچھ بول نہیں پا رہی تھی کیونکہ میرے جسم میں بہت عجیب سی فیلنگ آرہی تھی جو میں نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی اور اس وجہ سے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا آخر کار میرا شک صحیح نکلتا ہے کیونکہ چچا کے میری موم کے ساتھ کچھ غلط کیا تھا اور موم نے بھی ان کو منع نہیں کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ دونوں اپنی رضامندی کے ساتھ ایک دوسرے کو سیٹسفائی کر رہے تھے پھر میں نے سنا کہ چچا موم کو کہتے ہیں کہ تمہارے ہسبینڈ کو تو اس بارے میں نہیں پتا تو اس بات پر موم ہنسنے لگی وہ کہتی ہے کہ اس کو چھوڑو وہ تو پاگل ہے اور اسے اپنی انگلیوں پر کس طرح نچانا ہے میں جانتی ہوں جسے سن کر چچا مسکرانے لگے میرا شوہر تو پاگل ہے  جو مزہ مجھے آپ کے ساتھ آتا ہے  وہ مجھے اپنے شوہر کے ساتھ بھی نہیں آتا. ان سے زیادہ دیر تک بیٹنگ نہیں ہوتی وہ ایک دو بال کھیلنے کے بعد بولڈ ہو جاتے ہیں  اور پچ ساری گیلی کر دیتے ہیں میچ شروع ہوتا ہے اور وہ اتنی جلدی آؤٹ ہو جاتے ہیں جس وجہ سے مجھے بہت غصہ آتا ہے اگر میں ان کے بھروسے بیٹھی رہتی. تو عالیہ بھی آج ہمارے ساتھ نہ ہوتی. میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ میری لائف میں آئے. اور جس وجہ سے مجھے عالیہ ملی. یہ سن کر تو میرا دماغ ہل گیا تھا کہ موم یہ کیا بول رہی ہیں موم کی باتیں سن کے مجھے پتہ چلا کہ میں اپنے چچا سے ہوں 

میں نے زندگی میں پہلی بار اتنا جوشیلا منظر دیکھا تھا۔ دل میں ایک عجیب سا احساس تھا۔ موم کسی اور کے ساتھ خوشی کے لمحات گزار رہی تھی اور یہ بات میرے لئے بہت تکلیف دے تھی۔

 اسی لمحے میں نے دیکھا کہ دونوں تھک کر الگ بیٹھ جاتے ہیں جیسے دو شکاری ایک دوسرے سے جنگ لڑ کر آرام کر رہے ہوں۔ چچا اٹھ کر جانے لگے لیکن موم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ دوبارہ ملنے کب آئیں گے تو چچا نے بولا کہ بہت جلد آؤں گا جب تم کال کرو گی تو آ جاؤں گا اس کے بعد موم نے چچا کو جلدی سے جانے کے لیے بولا اور کہا کہ عالیہ آنے والی ہے اس سے پہلے کہ وہ آئے اپ یہاں سے چلے جاؤ پھر چچا جلدی سے چلے جاتے ہیں. لیکن میں نے سب کچھ  اپنی آنکھوں سے دیکھ اور سن لیا تھا اور مجھے اپنی آنکھوں دیکھے پر یقین نہیں ہو رہا تھا پھر میں جلدی سے اپنے روم میں جا کر لیٹ گئی میں نے خود کو سنبھالا اور سوچا کہ یہ موم کی اپنی لائف ہے ان کا جو دل کرتا ہے کریں مجھے اس میں انٹرفیئر کرنے کی ضرورت نہیں اگر میں نے ایسا کیا تو اس سے موم اور ڈیڈ کی آپس میں لڑائی ہو جائے گی 

پھر میں جلدی سے بستر سے اٹھی اور کپڑے بدلنے لگی تاکہ موم کو یہ لگے کہ میں ابھی ابھی کرینہ کے گھر سے واپس آئی ہوں اتنے میں موم میرے کمرے میں آئی اور مجھ سے پوچھنے لگی کہ تم کب واپس آئی ہو تو میں نے بولا کہ میں ابھی ابھی واپس آئی ہوں اور ڈریس چینج کر رہی ہوں موم نے پوچھا کہ کرینہ کیسی تھی تو میں نے ان کو بتایا کہ وہ گھر پر نہیں تھی اور میں آنٹی کے پاس کچھ دیر بیٹھ کر واپس آ گئی ہوں. یہ پوچھ کر موم باہر گھر کا کام کرنے چلی جاتی ہیں موم کے جاتے ہوئے میں نے نوٹس کیا کہ موم سے ٹھیک سے چلا نہیں جا رہا تھا ایسا شاید چچا کی وجہ سے ہی تھا. پھر میں اکیلی بیٹھی سوچنے لگی۔ جو کچھ میں نے ابھی دیکھا ہے اسے ہضم کیسے کروں . میں اپنی موم کے بارے میں ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی لیکن اب جو کچھ میں نے دیکھا تھا اس کے بعد ان خیالات کو نظرانداز کرنا مشکل تھا۔ پھر تھوڑی دیر بعد میں اپنی موم کے پاس بیڈ روم میں گئی تو وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگی کہ تمہارے راھول چچا آئے تھے تم گھر میں نہیں تھی اگر تم گھر میں ہوتی تو تمہاری بھی ملاقات ہو جانی تھی

 میں نے کہا اچھا وہ کب آئے تھے میں نے ایسا جان بوجھ کر بولا اصل میں تو میں حقیقت جانتی تھی

 کہ چچا تو میرے آنے سے پہلے ہی تالیاں مار کے خزانہ لوٹ رہے تھے اور انہوں نے تجوری کا دونوں سائیڈ سے تالا بھی توڑ دیا تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر انجان بن کے پوچھا تو انہوں نے بتایا جب تم کرینہ کے گھر گئی تھی اسی وقت آئے تھے اور بس پانچ منٹ بیٹھ کے چلے گئے تھے میں نے کہا اچھا کوئی بات نہیں نیکسٹ ٹائم ان سے ملاقات ہو جائے گی. پھر موم نے مجھے بتایا کہ چچا تمہارے لیے کچھ کپڑے اور کاسمیٹکس کا سامان لے کر آئے تھے جب میں نے وہ چیزیں دیکھیں تو وہ بہت پیاری تھیں اور مجھے بہت پسند آیئں موم نے کہا دیکھو تمہارے چچا کتنے اچھے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا کہ کہنے کو تو چچا ہیں لیکن اصل میں چچا نہیں ہیں.پھر موم کہنے لگی تمہارے چچا تم سے بہت پیار کرتے ہیں اسی لیے تمہارا اتنا خیال رکھتے ہیں اتنا خیال تو تمہارے ابو بھی تمہارا نہیں رکھتے. 

پھر میں نے بولا ہاں یہ بات تو ہے ابو نے تو مجھے کبھی کوئی گفٹ لا کر ہی نہیں دیا. موم کہتی ہیں تم ٹھیک کہہ رہی ہو ہم کو تو ایسے لگتا ہے

 جیسے تمہارے ابو ہم سے نفرت کرتے ہیں پھر میں نے ہمت کرتے ہوئے اپنی موم کو بتایا کہ میں نے آج چچا کو دیکھ لیا تھا جب وہ گھر آئے ہوئے تھے جسے سن کر موم ایک دم شاکڈ ہو جاتی ہے تو میں نے موم سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو موم نے بتایا کہ اس میں میری مرضی نہیں تھی بلکہ یہ سب کچھ تمہاری ابو کی مرضی سے ہوا ہے. میں نے پوچھا کہ ابو کی مرضی کیا مطلب. ابو کا اس بات سے کیا لینا دینا ہے تو موم نے بتایا کہ تمہارے ابو بیٹنگ میں بہت جلد آؤٹ ہو جاتے تھے اس وجہ سے ہمارا کوئی بیبی نہیں تھا تو میں نے ان سے طلاق مانگی. تو انہوں نے منع کر دیا لیکن میرے اصرار کی وجہ سے گھر میں بہت لڑائی ہوئی پھر میں گھر چھوڑ کر جانے لگی تھی. تو انہوں نے کہا کہ کہ تم کہیں اور سے بیبی لے لو. مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں 

اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے میری نظر تمہارے چچا پر پڑی ان کو بھی مجھ میں دلچسپی تھی یہ سمجھ لو کہ تمہارے ابو اور چچا میں اتنا ہی فرق ہے کہ جتنا ربڑ اور لکڑی میں ہے

 تمہارے چچا کا ایٹیٹیوڈ  لکڑی کی طرح سخت ہے اور یہ پچ پر کھڑے ہو کر کافی اچھی بیٹنگ کرتے ہیں اور دیر سے آؤٹ ہوتے ہیں جو مجھے بہت پسند ہے

 اور اب حقیقت کو تم نے دیکھ بھی لیا ہے اور یہ کافی سالوں سے ایسے ہی چل رہا ہے عالیہ نے جب یہ سنا تو اس کا منہ اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں آخر کار وہ بھی جان چکی تھی کہ موم نے اپنی مرضی سے یہ سب کچھ نہیں کیا اور اسی وجہ سے ڈیڈ ہم دونوں سے بالکل پیار نہیں کرتے اور نہ ہمارا خیال رکھتے ہیں اور ہر وقت ان کا موڈ آف ہی رہتا ہے اور اس کے بعد دونوں ماں بیٹی روتے ہوئے ایک دوسرے کے گلے لگ جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ سٹوری اپنے اختتام کو پہنچتی ہے تو کیسی لگی اپ کو آج کی یہ سٹوری اپنی رائے کا اظہار کمنٹ میں ضرور کیجئے گا اور چینل کو سبسکرائب اور ویڈیو کو شیئر ضرور کیجئے گا کیونکہ ادھر اپ کو اس طرح کی  مزے مزے کی بہت ساری سٹوریز ملیں گی

 نوٹ. اس سٹوری میں جو بھی نام استعمال کیے گئے ہیں یہ نام صرف سٹوری بیس پر ہی استعمال کیے گئے ہیں حقیقت میں ان کا کسی شخص کی ذاتی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے شکریہ

No comments

Powered by Blogger.